29780- عن أنس بن سيرين عن أبيه قال: كاتبني أنس بن مالك على عشرين ألف درهم فكنت فيمن فتح تستر فاشتريت رثة فربحت فيها، فأتيت أنس بن مالك بكتابته فأبى أن يقبلها مني إلا نجوما فأتيت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له فقال: أنت هو وقد كان رآني ومعي أثواب فدعا لي بالبركة؟ قلت: نعم فقال: أراد أنس الميراث وكتب إلى أنس أن اقبلها فقبلها. ابن سعد، "ق".
29780 ۔۔۔ انس بن سیرین اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک (رض) نے بیس ہزار دراہم پر مکاتب بنادیا چنانچہ فتح تستر میں میں بھی شامل تھا میں نے سطحی قسم کا سازوسامان خرید لیا مجھے اس میں کافی نفع ہوا میں بدل کتابت کی پوری رقم کر حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس آیا انھوں نے یکمشت بدل کتابت لینے سے انکار کردیا اور کہا میں قسطوں میں لوں گا ۔ میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا : کیا وہ تمہی ہو مجھے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دیکھا تھا میرے پاس کپڑے تھے میرے لیے برکت کی عا کی میں نے عرض کیا جی ہاں میں وہی ہوں فرمایا : کیا انس میراث چاہتا ہے پھر حضرت انس بن مالک (رض) کو خط لکھا کہ رقم قبول کرو چنانچہ حضرت انس بن مالک (رض) نے بدل کتابت کی رقم قبول کرلی ۔ (رواہ ابن سعد والبیہقی)