29829- إني أرى مالا ترون وأسمع مالا تسمعون، أطت السماء وحق لها أن تئط، فما فيها موضع أربعة أصابع إلا وملك واضع جبهته لله ساجدا، والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا، وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله". "حم، ت، هـ، ك" عن أبي ذر.
29829 ۔۔۔ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان میں چرچراہٹ ہے اور چرچرانا آسمان کا حق ہے چونکہ آسمان میں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ نہیں جہاں فرشتے نے سر سجدے میں نہ رکھا ہو بخدا ! جو کچھ میں جانتا ہوں وہ اگر تم بھی جانتے ہنستے کم روتے زیادہ اور بچھونوں پر لیٹ کر اپنی بیویوں سے لذت نہ اٹھاسکتے تم پہاڑوں پر نکل جاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور آہ وبکا شروع کردیتے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی وابن ماجہ والحاکم عن ابی ذر) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 917 و ضعیف الترمذی 401 ۔