29835- "يا عمر ارجع فإن غضبك عز ورضاك حكم، إن لله تبارك وتعالى في السماوات السبع ملائكة يصلون له غني عن صلاة فلان قال عمر: وما صلاتهم فلم يرد عليه شيئا، فأتى جبريل فقال: يا نبي الله سألك عمر عن صلاة أهل السماء؟ قال: نعم قال: اقرأ على عمر السلام وأخبره أن أهل السماء الدنيا سجود إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي الملك والملكوت، وأهل السماء الثانية ركوع إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي العزة والجبروت وأهل السماء الثالثة قيام إلى يوم القيامة يقول: سبحان الحي الذي لا يموت". ابن جرير، "حل" عن سعيد بن جبير مرسلا.
29835 ۔۔۔ اے عمر ! واپس آؤ تمہارا غصہ عزت ہے تمہاری خوشی حکم ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بیشمار فرشتے ہیں جو آسمانوں میں محو عبادت ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ فلاں کی نماز سے بےنیاز ہیں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : ان فرشتوں کی نماز کیا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا اے اللہ کے نبی ! عمر نے آپ سے اہل آسمان کی نماز کے متعلق سوال کیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں جبرائیل امین (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ عمر کو سلام کہیں اور انھیں خبر دیں کہ آسمان دنیا کے فرشتے تاقیامت سجدے میں ہیں اور وہ یہ تسبیح کہتے ہیں : ” سبحان ذی الملک والملکوت “ تیسرے آسمان کے فرشتے تاقیامت حالت قیام میں ہیں اور وہ یہ تسبیح کہتے ہیں ” سبحان الحی الذی لایموت “۔ (رواہ ابن جریر وابو نعیم فی الحلیۃ عن سعید بن جبیر مرسلا)