29859- "ما أنزل الله عز وجل من السماء سفة من الريح إلا بمكيال ولا قطرة من الماء إلا بمكيال، إلا يوم نوح ويوم عاد، فإن الماء يوم نوح طغى على الخزان بأمر الله تعالى فلم يكن لهم عليه سبيل، وإن الريح يوم عاد عتت على الخزان بأمر الله فلم يكن لهم عليها سبيل". "قط" في الأفراد، "حل" وابن عساكر - عن ابن عباس.
29859 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے ہوا کا جو بگولا بھی نازل کرتا ہے وہ مقدار کے مطابق ہوتا ہے اور آسمان سے جو قطرہ بھی پانی کا نازل کرتا ہے وہ بھی مقدار کے مطابق ہوتا ہے البتہ طوفان نوح کے موقع پر پانی اور قوم عاد کے عذاب کے موقع پر ہوا بغیر مقدار کے چلی چنانچہ طوفان نوح کے دن پانی اللہ کے حکم سے خزانچی فرشتوں سے سرکشی کرکے نکل گیا اور قوم عاد کے عذاب کے دن ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم سے خزانچی فرشتوں سے سرکشی کر کے نکل پڑی ۔ چنانچہ ہوا پر فرشتوں کا کوئی اختیار نہیں تھا ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد وابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر عن ابن عباس)