29863- عن عمر أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ادع الله أن يدخلني الجنة، فعظم الرب وقال: إن عرشه فوق سبع سماوات، وفي لفظ: إن كرسيه وسع السماوات والأرض وإن له أطيطا كأطيط الرحل الجديد إذا ركب في ثقله . "ع" وابن أبي عاصم وابن خزيمة، "قط" في الصفات، "طب" في السنة وابن مردويه، "ص".
29863 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) روایت کی ہے کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تاکہ مجھے جنت میں داخل کر دے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رب تعالیٰ کی تعظیم بیان کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رب تعالیٰ کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیرے رکھا ہے عرش چرچرارہا ہے جس طرح پالان سواری کے وقت چرچراتا ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن ابی عاصم وابن خزیمۃ والدارقطنی فی الصفات والطبرانی فی السنۃ وابن مردویہ و سعید بن المنصور)