29874- "يا أبا جهل يا عتبة يا شيبة يا أمية هل وجدتم ما وعد ربكم حقا، فإني قد وجدت ما وعدني ربي حقا فقال عمر: يا رسول الله ما تكلم من أجساد لا أرواح فيها؟ فقال: والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون جوابا". "حم، م" عن أنس.
29874 ۔۔۔ اے ابو جہل ! اے عتبہ ! اے شیبہ ! اے امیہ ! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بےروح جسموں سے کلام کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میری بات کو ان (مردوں) سے زیادہ نہیں سنتے (بلکہ وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں) البتہ اتنی بات ہے کہ وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن انس (رض))