29947- عن علي قال: تقدم عتبة بن ربيعة وتبعه ابنه وأخوه فنادى من يبارز؟ فانتدب له شاب من الأنصار فقال: من أنتم؟ فأخبروه، فقال: لا حاجة لنا فيكم، إنما أردنا بني عمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " قم يا حمزة قم يا علي قم يا عبيدة بن الحارث"، وأقبل حمزة إلى عتبة، وأقبلت إلى شيبة واختلف بين عبيدة والوليد ضربتان، فأثخن كل واحد منهما صاحبه، ثم ملنا على الوليد فقتلناه واحتملنا عبيدة. "د ك، هق" في الدلائل.
29947 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ بدر کے دن عتبہ بن ربیعہ باہر نکلا اس کے پیچھے اس کا بھائی اور بیٹا بھی ہوئے پھر عتبہ مقابل کا خواہاں ہو انصار کے چند نوجوان صفوں سے باہر نکلے عتبہ نے کہا تم کون ہو نوجوانوں نے جواب دیا عتبہ بولا ہمیں تم سے کوئی کام نہیں ہم تو اپنے چچا کے بیٹوں کے خواہشمند ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ ! کھڑے ہوجاؤ اے علی ! کھڑے ہوجاؤ اے عبیدہ بن حارث ! کھڑے ہوجاؤ حمزہ (رض) نے عتبہ کی خبر لی ، میں شیبہ کے سر ہو لیا جبکہ عبیدہ اور ولید کے درمیان دو دو ہاتھ ہوئے میں اور حمزہ نے اپای اپنا مقابل قتل کرلیا پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے اسے بھی واصل جہنم کیا اور عبیدہ (رض) کو اٹھا کرلے آئے ۔ (رواہ ابو داؤد والحاکم والبیہقی فی الدلائل)