29965- "مسند حسين بن السائب الأنصاري" عن حسين بن السائب قال: لما كان ليلة العقبة أو ليلة بدر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن معه: كيف تقاتلون؟ فقام عاصم بن ثابت بن الأفلح فأخذ القوس وأخذ النبل فقال: أي رسول الله إذا كان القوم قريبا من مائتي ذراع أو نحو ذلك كان الرمي بالقسي، وإذا دنا القوم حتى تنالنا وتنالهم الحجارة كانت المراضخة بالحجارة، فإذا دنا القوم حتى تنالنا وتنالهم الرماح كانت المداعسة بالرماح حتى تنقصف، فإذا انقصفت وضعنا، فأخذ السيف فتقلد واستل السيف وكانت السلة والمجالدة بالسيوف، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بهذا أنزلت الحرب، من قاتل فليقاتل قتال عاصم". الحسن بن سفيان وأبو نعيم.
29965 ۔۔۔ ” مسند حسین بن السائب انصاری “ حسین بن سائب کی روایت ہے کہ جب عقبہ کی رات ہوئی یا بدر کی رات ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم کیسے لڑائی کرو گے عاصم بن ثابت بن افلح کھڑے ہوئے اور تیر کمان لے کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب دشمن دو سو ذراع کے فاصلے پر ہوگا تو ان پر تیروں کی بارش کروں گا جب دشمن اتنا قریب ہوگا کہ پتھر ان پر آسانی سے برسائے جاسکتے ہوں تو ان پر پتھر برسائے جائیں گے جب دشمن اور زیادہ قریب ہوجائے گا تو نیزوں سے اس کی خبر لی جائے گی حتی کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے پھر ہم تلواریں لے لیں گے اور تلواروں سے ان کو ناکوں چنے چبوائیں گے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنگ کا حکم اسی طرح نازل ہوا ہے جو شخص بھی جنگ میں حصہ لے وہ عاصم کی طرح لڑے ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم)