29977- عن عائشة قالت لما أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأولئك الرهط عتبة بن ربيعة وأصحابه فألقوا في الطوي قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: " جزى الله شرا من قوم نبي ما كان أسوأ الظن وأشد التكذيب، فقيل: يا رسول الله كيف تكلم قوما قد جيفوا؟ قال: ما أنتم بأفهم لقولي منهم أو لهم أفهم لقولي منكم". ابن جرير.
29977 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے مقتولین کو کنویں میں پھینک دینے کا حکم دیا اور یہ لوگ کنویں میں پھینک دیئے گئے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ نبی کی قوم کو برا بدلہ دے جو انھوں نے نہایت بدگمانی کا مظاہرہ کیا اور میری تکذیب کی عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مردوں سے کیسے بات کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم ان سے زیادہ میری بات کو نہیں سمجھ رہے ۔ (رواہ ابن جریر)