29987- "مسند علي" عن محمد بن جبير قال: حدثني رجل من بني أود أن علي بن أبي طالب خطب الناس بالعراق، وهو يسمع فقال: بينا أنا في قليب بدر جاءت ريح لم أر مثلها قط شدة إلا التي قبلها فكانت الأولى جبريل في ألف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانت الريح الثانية ميكائيل في ألف عن ميمنة النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأبي بكر، وكانت الريح الثالثة إسرافيل في ألفين عن ميسرة النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأنا في الميسرة، فلما هزم الله تعالى أعداءه حملني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على فرسه فخرجت فلما جرت الفرس خررت على عنقها فدعوت الله فأمسكت حتى استويت. ابن جرير.
29987 ۔۔۔ ” مسند علی “ محمد بن جبیر کہتے ہیں : مجھے بنی اود کے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عراق میں لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : میں بدر کے قلیب کنویں پر تھا یکایک تیز ہوا چلی میں نے کبھی ایسی تیز ہوا نہیں دیکھی یہ جبرائیل امین ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے دوسری بار پھر تیز ہوا چلی اس بار میکائیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے ان کی دائیں طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) تھے تیسری بار پھر تیز ہوا چلی اس بار اسرافیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میں ان کی بائیں طرف تھے جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست فاش دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کیا جب گھوڑا چل پڑا میں گھوڑے کی گردن پر گرگیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی میں مضبوطی سے بیٹھ گیا ۔ (رواہ ابن جریر)