hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30000

.

كنز العمال

30000
Kanz al-Ummal
30000- عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لما نزل المسلمون بدرا وأقبل المشركون نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل أحمر فقال: " إن يكن من القوم خير فعند صاحب الجمل الأحمر إن يطيعوه ترشدوا" فقال عتبة: أطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم فإنكم إن فعلتم لم يزل في قلوبكم ينظر الرجل إلى قاتل أخيه وقاتل أبيه فاجعلوا في جنبها وارجعوا، فبلغت أبا جهل فقال: انتفخ والله سحره حيث رأى محمدا وأصحابه والله ما ذاك به وإنما ذاك لأن ابنه معهم وقد علم أن محمدا وأصحابه أكلة جزور لو قد التقينا فقال عتبة: سيعلم مصفر استه من الجبان المفسد لقومه أما والله إني لأرى تحت القشع قوما ليضربنكم ضربا يدعون لهم السبع، أما ترون كأن رؤوسهم رؤوس الأفاعي وكأن وجوههم السيوف ثم دعا أخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا فصل من الصف دعا إلى المبارزة. "ش".
30000 ۔۔۔ عکرمہ مولائے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب مسلمان بدر پہنچے اور مشرکین سامنے سے آتے دکھائی دیئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتبہ بن ربیعہ کی طرف دیکھا وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر قوم کے کسی فرد کے پاس بھلائی ہے تو وہ یہی سرخ اونٹ والا ہوسکتا ہے اگر مشرکین اس کی بات مان لیں ہدایت پاجائیں گے (چنانچہ عتبہ نے : میری بات مانو اور ان لوگوں سے جنت مت کرو چونکہ اگر تم نے جنگ کی تو آئندہ تم میں سے ہر شخص اپنے بھائی کے قاتل کو دیکھ کر کڑھتا رہے گا ، لہٰذا جنگ سے طرح دے کر چلے جاؤ ابو جہل کو عتبہ کی بات پہنچی کہنے لگا : بخدا ! اس نے محمد کو دیکھ لیا ہے اور اس کا جادو پھیلتا جا رہا ہے حالانکہ بخدا ! حقیقت اس کے برعکس ہے عتبہ کو یہ خیال اس لیے سوجھا ہے چونکہ اس کا بیٹا محمد کے ساتھیوں میں ہے جبکہ محمد اور اس کے ساتھیوں کا یہ حال ہے کہ وہ صرف ایک اونٹ کا نوالہ ہیں۔ اگر ہماری مڈبھیڑ ہوئی یہی صورت سامنے آئے گی ۔ عتبہ نے کہا : بزدلی کی وجہ سے اپنی سرینوں کو رنگنے والا عنقریب جان لے گا جو اپنی قوم میں فساد برپا کرنے والا بھی ہے۔ بخدا ! میں پوستین کے نیچے ایسی قوم کو چھپے دیکھ رہا ہوں جو تمہیں مار مار کر تمہاری درگت بنا ڈالے گی جس کا ڈر بڑی اہمیت کا حامل ہے کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ ان کے سر یوں لگتے ہیں جیسے سانپوں کے سر ہوں ان کے چہرے تلواروں کی مانند ہیں پھر عتبہ نے اپنے بھائی اور بیٹے کو بلایا اور ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا آیا حتی کہ جب صفوں سے الگ ہوگیا تو مبازت کا نعرہ لگایا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)