hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30006

.

كنز العمال

30006
Kanz al-Ummal
30006- عن يحيى بن أبي كثير لما كان يوم بدر أسر المسلمون من المشركين سبعين رجلا، فكان ممن أسر عباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم فولي وثاقه عمر بن الخطاب، فقال عباس: أما والله يا عمر ما يحملك على شد وثاقي إلا لطمي إياك في رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فقال عمر: والله ما زادتك تلك علي إلا كرامة ولكن الله أمرني بشد الوثاق، قال: "فكان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسمع أنين العباس فلا يأتيه النوم فقالوا: يا رسول الله ما يمنعك من النوم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كيف أنام وأنا أسمع أنين عمي"، قال فزعموا أن الأنصار أطلقوه من ثاقه وباتت تحرسه. "كر".
30006 ۔۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر مسلمانوں نے ستر مشرکین قید کر لیے قیدیوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس (رض) بھی تھے ان کی بیڑیوں کی دیکھ بھال کا کام حضرت عمر (رض) کے سپرد ہوا۔ عباس (رض) نے کہا : اے عمر ! بخدا تمہیں میری بیڑیوں پر صرف اس بات نے اکسایا ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خیر خواہ نہیں سمجھتے ہو ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : بخدا ! اس سے میرے لیے تمہاری عزت میں اضافہ ہی ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ایسا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس (رض) کے رونے کی آواز سن رہے تھے اور انھیں نیند نہیں آنے پا رہی تھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سوتے کیوں نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کیسے سو سکتا ہوں جبکہ میں اپنے چچا کے رونے کی آواز سنتا ہوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : انصار نے عباس (رض) کی بیڑیاں کھول دی ہیں اور انصاران کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)