hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30023

.

كنز العمال

30023
Kanz al-Ummal
30023- عن أنس " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شاور حيث بلغه إقفال أبي سفيان فتكلم أبو بكر فأعرض عنه، ثم تكلم عمر فأعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول الله والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نضرب أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا فندب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقوا حتى نزلوا بدرا ووردت عليه روايا قريش وفيهم غلام أسود لبني الحجاج، فأخذوه فكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يسألونه عن أبي سفيان وأصحابه فيقول: ما لي علم بأبي سفيان ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه فإذا ضربوه قال: نعم أنا أخبركم هذا أبو سفيان فإذا تركوه سألوه قال: مالي بأبي سفيان علم ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف في الناس فإذا قال هذا أيضا ضربوه ورسول الله صلى الله عليه وسلم قائم يصلي، فلما رأى ذلك انصرف قال: والذي نفسي بيده لتضربونه إذا صدقكم وتتركونه إذا كذبكم قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا مصرع فلان يضع يده على الأرض ههنا وههنا فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ش".
30023 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو سفیان کا پیچھا کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مشورہ لیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کچھ بات کی آپ نے اعراض کردیا پھر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بات کی آپ نے اس کی طرف بھی کوئی خاص توجہ نہ دی اتنے میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں (یعنی انصار کو) خاطر میں لانا چاہتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم برک عماد تک جائیں ہم چلنے کے لیے تیار ہیں۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رائے کو اچھا سمجھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین چل پڑے حتی کہ بدر جا پہنچے یہاں کنوؤں پر پانی لینے کے لیے قریش کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ان میں بنی حجاج کا ایک غلام بھی تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے پکڑ لیا اور اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھنے لگے غلام بولا : مجھے ابو سفیان کا علم نہیں البتہ ابو جہل ، عتبہ ، شیبۃ ، امیۃ بن خلف وغیرھم لوگ ادھر موجود ہیں جب غلام نے یہ جواب دیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے مارا بولا : جی میں ابھی بتائے دیتا ہوں چنانچہ بولا : ابو سفیان نہیں ہے یہ جواب سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے چھوڑ دیا پھر اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھا بولا مجھے ابو سفیان کا علم میں البتہ ابو جہل ، عتبہ ، شیبۃ اور امیہ بن خلف وغیرہم یہ لوگ ادھر موجود ہیں۔ جب وہ یہ جواب دیتا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اسے مارتے جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے جب نماز سے فارغ ہوئے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب یہ غلام سچ بولتا ہے تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تم اسے چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا : یہ فلاں کی پچھاڑ گاہ ہے اور یہ فلاں کی بخدا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس جس کافر کی پچھاڑ گاہ کی تعیین کی تھی اسی جگہ میں وہ مارا گیا زرہ برابر بھی کوئی وہاں سے نہیں چوکا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)