30033- عن القاسم بن محمد عن كهيل الأزدي وكانت له صحبة قال: أصيب الناس يوم أحد وكثر فيهم الجراحات، فأتى رجل النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: " إن الناس قد كثر فيهم الجراحات، قال: انطلق فقم على الطريق فلا يمر بك جريح إلا قلت بسم الله ثم تفلت في جرحه وقلت بسم الله شفاء الحي الحميد من كل حد وحديد أو خنجر بليد اللهم اشف إنه لا شافي إلا أنت" قال كهيل: فإنه لا يقيح ولا يرم. الحسن بن سفيان، "كر".
30033 ۔۔۔ قاسم بن محمد کہل ازدی (رض) (انھیں شرف صحبت حاصل ہے) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو جنگ احد میں سکت مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ۔ بہت سارے مسلمان زخمی بھی ہوئے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : بہت سارے مسلمان زخمی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاؤ اور راستے پر کھڑے ہوجاؤ جو زخمی بھی تمہارے پاس سے گزرے یہ دعا پڑھ کر اس کے زخم پر دم کرو۔ ” بسم اللہ شفاء الحی الحمید من کل حد وحدیدا وخنجر بلید اللہم اشف انہ لا شافی الا انت “۔ اللہ کے نام سے وہی ذات شفا دینے والی ہے جو زندہ اور قابل ستائش ہے وہی شفا دیتا ہے ہر تلوار سے لوہے سے یا کند خنجر سے یا اللہ شفا عطا فرما، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ حضرت کہل (رض) کہتے ہیں چنانچہ کسی شخص کے زخم میں پیپ پڑی اور نہ ہی ورم بنا ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابن عساکر)