30038- عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: خذيه حميدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وأبو دجانة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يأخذ هذا السيف بحقه فقال أبو دجانة: أنا وأخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أعطيته حقه؟ قال: نعم. "ش".
30038 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ہاتھ میں ایک تلوار لے کر آئے اور کہا : اسے خوشی سے لے لیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو آج جنگ اچھی طرح سے لڑے تو تمہارے لیے شاباش ہے آپ کے پاس حضرت سھل بن حنیف حضرت عاصم بن ثابت حضرت حارث بن صمد اور حضرت ابو دجانہ (رض) کھڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار لے لی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے راہ میں بےدریغ چلائی ۔ حتی کہ جب تلوار لائے تلوار آگے سے مڑی ہوئی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس کا حق ادا کیا ، عرض کیا : جی ہاں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)