30043- "من مسند حصين بن عوف الخثعمي" أن حارثة بن الربيع جاء نظارا يوم أحد وكان غلاما فأصابه سهم غرب فوقع في ثغرة نحره فقتله فجاءت أمه الربيع فقالت: يا رسول الله قد علمت مكان حارثة مني فإن يكن من أهل الجنة فأصبر، وإلا فسترى قال: يا أم حارثة إنها ليست بجنة واحدة ولكنها جنان كثيرة وهو في الفردوس الأعلى قالت فسأصبر". "طب".
30043 ۔۔۔ ” مسند حصین بن عوف خشعمی “ حضرت حارثہ بن ربیع (رض) احد کے دن جنگی تماشائی کے طور پر آئے تھے اور ابھی لڑکے تھے چنانچہ بھٹکتا ہوا ایک تیر ان کے جا لگا اور شہید ہوگئے لشکر کی واپسی پر ان کی والدہ آئے اور عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حارثہ کا مقام معلوم ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو میں صبر کرتی ہوں وگرنہ بصورت دیگر آپ میری حالت دیکھ لیں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ام حارثہ جنت کوئی ایک نہیں بلکہ وہ بیشمار بہشتیں ہیں تمہارا فردوس بریں میں ہے ام حارثہ (رض) بولیں تب میں صبر کروں گی۔ (رواہ الطبرانی)