hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30122

.

كنز العمال

30122
Kanz al-Ummal
30122- "مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: خرج يوم خيبر مرحب اليهودي وهو يقول: قد علمت خيبر أني مرحب ... شاكي السلاح بطل مجرب أطعن أحيانا وحينا أضرب ... إذا الليوث أقبلت تجرب وهو يقول: هل من مبارز؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهذا؟ فقال محمد بن مسلمة: أنا له يا رسول الله أنا والله الموتور الثائر قتلوا أخي بالأمس، قال فقال: قم إليه اللهم أعنه فلما دنا أحدهما من صاحبه دخلت بينهما شجرة ثم حمل عليه مرحب فضربه فاتقى بالدرقة فوقع سيفه فيها فعضت به الدرقة فأمسكته فضربه محمد بن مسلمة فقتله. "ع" وابن جرير والبغوي، "كر".
30122 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر مرحب یہودی یہ رجز پڑھتا ہوا باہر آیا ۔ قدعلمت خیبرانی مرحب شبا کی السلاح بطل مجرب اطعن احیانا وحینا اضرب اذا اللیوث اقسلت تجرب : پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں جب شیر مدمقابل ہوتے ہیں تبھی آزمائے جاتے ہیں اور کبھی تلوار سے وار کرتا ہوں جب شیر مدمقابل ہوتے ہیں تبھی آزمائے جاتے ہیں۔ چنانچہ مرحب ” ھل من مبازر “ کیا کوئی مدمقابل ہے ؟ کا نعرہ لگا رہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا کام کون تمام کرے گا ؟ حضرت محمد بن مسلمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کا کام تمام کرنا چاہتا ہوں اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے بخدا اس سے میں اپنے بھائی کا بدلہ لوں گا آپ نے فرمایا : چلو اس کے طرف کھڑے ہو جو یا اللہ ! اس کی مدد کر جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ان کے درمیان ایک درخت حائل ہو جاتاہم مرحب نے حضرت محمد بن مسلمہ (رض) پر تلوار سے وار کیا محمد بن مسلمہ (رض) نے ڈھال پر تلوار کا وار لیا جس سے ڈھال کٹ گئی لیکن حضرت محمد بن مسلمہ کو ڈھال نے بچا لیا اگلا وار محمد بن مسلمہ (رض) نے بڑھ کر کیا اور مرحب کا کام تمام کردیا ۔ (رواہ ابو یعلی وابن جریر والبغوی وابن عساکر)