30138- عن علي قال: خرج عبدان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية قبل الصلح فكتب إليه مواليهم فقالوا: يا محمد ما خرجوا إليك رغبة في دينك وإنما خرجوا هربا من الرق، فقال ناس: صدقوا يا رسول الله ردهم إليهم فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما أراكم تنتهون يا معشر قريش حتى يبعث الله عليكم من يضرب رقابكم على هذا، وأبى أن يردهم وقال: هم عتقاء الله عز وجل، وخرج آخرون بعد الصلح فردهم. "د" وابن جرير وصححه، "ق، ض".
30138 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر صلح سے قبل کچھ غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نکل کر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان غلاموں کے آقاؤں نے خط لکھا کہ یہ لوگ تمہارے دین میں راغب ہو کر نہیں آئے وہ تو غلامی سے بھاگ کر تمہارے پاس آئے ہیں کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ان کے آقاؤں نے سچ کہا ہے آپ انھیں واپس کردیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصہ ہوئے اور فرمایا : اے جماعت قریش ! میں تمہیں حق بات سے باز رہتے کیوں دیکھ رہا ہوں حتی کہ رب تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کر دے جو تمہارے گردنیں مارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان غلاموں کو واپس کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ بندے ہیں جبکہ صلح کے بعد کچھ اور غلام نکل کر آپ کے پاس آئے آپ نے شرط معاہدہ کے مطابق انھیں کفار کی طرف واپس کردیا ۔ (رواہ ابو داؤد وابن جریر وصححہ والبخاری ومسلم والضیاء)