3014- "إن الله عز وجل يبعث يوم القيامة مناديا: يا آدم إن الله يأمرك أن تبعث بعثا من ذريتك إلى النار، فيقول آدم: يا رب ومن كم؟ فيقال له: من كل مائة تسعة وتسعون، هل تدرون ما أنتم في الناس؟ "ما أنتم في الناس –1" إلا كالشامة في جنب البعير". "حم عن ابن مسعود".
3014: اللہ عزوجل قیامت کے دن ایک منادی کو کھڑا فرمائیں گے جو نداء دے گا : اے آدم ! اللہ پاک آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کے لیے حصہ نکالیے۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے : اے پروردگار ! کتنے میں سے کتنا ؟ کہا جائے گا : ہر سو میں سے ننانوے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جانتے ہو لوگوں میں تمہاری کیا نسبت ہے ؟ تم لوگوں میں (تعداد کے اندر یوں ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں تل۔ (مسند احمد بروایت ابن مسعود رضی الہ عنہ)
امت محمدیہ کی کثرت
فائدہ : دوسری روایات میں آیا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں میں سب سے زیادہ تعداد والی ہے، جب یہ قیامت کے روز سامنے آئے گی تو افق کو بھر دے گی۔ جبکہ مذکورہ حدیث میں قلت کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب دوسری قوموں کی نسبت اونٹ کے جسم میں تل کے برابر ہیں۔ دوسرے تمام کفار اور یاجوج ماجوج اور جن کفار یہ سب اس قدر تعداد میں ہوں گے جیسے تل کے مقابلے میں پورا جسم۔ پھر تمام مسلمانوں میں امت محمدیہ کے مسلمان اسی قدر زیادہ ہیں جیسے ایک تل کے مقابلہ میں پورا جسم۔ دیگر تمام انبیاء کے مسلمان امتی تل کی مانند ہیں اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتمی پورے جسم کے مانند ہیں۔ الحمد للہ علی ذلک۔