30161- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وفي البيت وحول البيت ثلاثمائة وستون صنما تعبد من دون الله فأمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبت كلها لوجوهها، ثم قال: جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا، ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فصلى فيه ركعتين فرأى فيه تمثال إبراهيم وإسماعيل وإسحاق قد جعلوا في يد إبراهيم الأزلام يستقسم بها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قاتلهم الله ما كان إبراهيم يستقسم بالأزلام ثم دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بزعفران فلطخه بتلك التماثيل. "ش".
30161 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے جبکہ بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ (360) بت تھے جن کی اللہ کے سوا پوجا کی جاتی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو یہ بت اوندھے منہ کردیئے گئے پھر فرمایا : حق آیا اور باطل بھاگ نکلا بیشک باطل بھاگنے کا سزاوار ہے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں بیت اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی تصویریں دیکھیں بایں طور کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھ میں قسمت کے تیر ہیں آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مشرکین کا ناس کرے ابراہیم (علیہ السلام) تیروں سے قسمت نہیں معلوم نہیں کرتے تھے پھر آپ نے زعفران منگوا کر ان تصویروں کو مسخ کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)