30168- "من مسند سهل بن سعد الساعدي" عن سهل بن عمرو قال: لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وظهر اقتحمت بيتي وأغلقت علي بابي وأرسلت إلى ابني عبد الله بن سهيل أن أطلب لي جوارا من محمد صلى الله عليه وسلم: فإني لا آمن أن أقتل، فذهب عبد الله بن سهيل فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبي تؤمنه؟ قال: نعم هو آمن بأمان الله، فليظهر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن حوله: من لقي منكم سهيلا فلا يشد إليه النظر فليخرج فلعمري أن سهيلا له عقل وشرف وما مثل سهيل جهل الإسلام، ولقد رأى ما كان يوضع فيه إنه لم يكن له بنافع، فخرج عبد الله إلى أبيه فأخبره بمقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سهيل: كان والله برا صغيرا وكبيرا فكان سهيل يقبل ويدبر وخرج إلى حنين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على شركه حتى أسلم بالجعرانة، فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ من غنائم حنين مائة من الإبل. الواقدي وابن سعد، "كر".
30168 ۔۔۔ ” مسند سہل بن سعد ساعدی “ حضرت سہیل بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور اہل مکہ پر غلبہ حاصل ہوا تو میں اپنے گھر میں گھسا اور دروازہ بند کردیا پھر میں نے اپنا بیٹا عبداللہ بھیجا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے لیے امن کی درخواست کرے چونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں قتل کردیا جاؤں گا عبداللہ بن سہیل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ میرے باپ کو امن دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں اسے اللہ تعالیٰ کا امان ہے لہٰذا وہ سامنے آجائے پھر آپ نے اپنے پاس موجود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : تم میں سے جس شخص کو بھی سہیل ملے اس کی طرف سخت نظروں سے نہ دیکھے سہیل کو اب باہر آجانا چاہیے چونکہ سہیل صاحب عقل اور صاحب شرف انسان سے سہیل جیسا شخص اسلام سے غافل نہیں رہ سکتا وہ سمجھتا ہے کہ جہالت اس کے نفع میں نہیں ہے۔ عبداللہ (رض) نے جا کر اپنے والد کو خبر کی سہیل نے کہا بخدا ! محمد جب چھوٹا تھا اس وقت بھی احسان کرتا رہا اور آج جب بڑا ہوا ہے تب بھی احسان کررہا ہے پھر سہیل آپ کے پاس آتے جاتے رہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک رہے اور بالآخر جعرانہ کے مقام پر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے مال غنیمت سے سو (100) اونٹ سہیل کو دیئے ۔ (رواہ الواقدی وابن سعد وابن عساکر)