30178- عن ابن عمر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو على درج الكعبة وهو يقول: الحمد لله الذي أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده ألا إن كل مأثرة كانت في الجاهلية فإنها تحت قدمي اليوم إلا ما كانت من سدانة البيت وسقاية الحاج، ألا وإن ما بين العمد والخطأ القتل بالسوط والحجر فيهما مائة بعير منها أربعون في بطونها أولادها. "عب".
30178 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جبکہ آپ کعبہ کے دروازے میں کھڑے تھے آپ نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور لشکروں کو اکیلے اسی نے شکست فاش دی اپنے بندے کی مدد کی ، خبردار ! ہر وہ چیز جس کا جاہلیت میں قابل فخر ہونا اعتبار کیا جاتا تھا وہ آج میرے قدموں تلے ہے البتہ وہ عمل اور وہ چیز جس کا تعلق بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے سے تھا وہ اب بھی باقی ہے خبردار قتل عمد اور قتل خطاء کے درمیان ڈندے اور پتھر سے بھی قتل ہوتا ہے ایسی صورت میں قاتل مقتول کے ورثاء کو سو اونٹ بطور دیت دے گا ان میں سے چالیس اونٹ ایسے ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)