30182- عن سعيد بن المسيب قال: لما كان ليلة دخل الناس مكة ليلة الفتح لم يزالوا في تكبير وتهليل وطواف بالبيت حتى أصبحوا فقال أبو سفيان لهند: أترين هذا من الله؟ ثم أصبح فغدا أبو سفيان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: قلت لهند أترين هذا من الله؟ نعم هو من الله؟ فقال أبو سفيان: أشهد أنك عبد الله ورسوله والذي يحلف به أبو سفيان ما سمع قولي هذا أحد من الناس إلا الله وهند. "كر"؛ وسنده صحيح.
30182 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ جب فتح مکہ کی رات ہوئی تو لوگ مکہ میں داخل ہوئے لوگ برابر تکبیر تہلیل اور طواف میں لگے رہے صبح ہوئی تو ابوسفیان نے اپنی بیوی ھند سے کہا : کیا تم یہ کچھ اللہ کی طرف سے دیکھ رہی ہو ؟ پھر صبح ہوتے ہی ابوسفیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ھند سے کہا تھا کیا تم سمجھتی ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ جی ہاں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ابوسفیان نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں قسم اس ذات کی جس کی ابوسفیان قسم کھاتا ہے میری یہ بات اللہ اور ھند کے سوا کسی نے نہیں سنی ۔ (رواہ ابن عساکر وسندہ صحیح) ۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث سے یہ استدلال قطعا ٹھیک نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فداہ ابی وامی) عالم الغیب تھے جس طرح کہ بعض جھال نے کیا ہے چونکہ یہ معجزہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے نیز آپ کو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آگاہ کردیا تھا ۔