30203- عن ابن أبي مليكة قال: لما كان يوم الفتح هرب عكرمة بن أبي جهل فركب البحر فجعلت الصراري ومن في السفينة يدعون الله، ويستغيثون به فقال: ما هذا؟ فقيل: هذا مكان لا ينفع فيه إلا الله قال عكرمة: فهذا إله محمد الذي كان يدعو إليه ارجعوا بنا فرجع فأسلم وكانت امرأته قد أسلمت قبله فكانا على نكاحهما. "كر" من مراسيل أبي جعفر، "ش".
30203 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ بن ابی جہل بھاگ گئے اور سمندر میں کشتی پر جا سوار ہوئے سمندری طوفان کو دیکھ کر ملاح اور کشتی سواروں نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا اور اللہ تعالیٰ ہی سے فریادیں کرنے لگے عکرمہ نے توحید پرستی کی وجہ پوچھی کشتی بانوں نے کہا : اس جگہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز نفع نہیں پہنچاتی عکرمہ (رض) کہا : یہ ہی تو محمد کا معبود ہے جسے وہ پکارتا ہے مجھے واپس کرو چنانچہ عکرمہ (رض) واپس لوٹ آئے اور اسلام قبول کرلیا جبکہ ان سے پہلے ان کی بیوی اسلام قبول کرچکی تھی اور یہ دونوں اسی نکاح پر برقرار ہے۔ (رواہ ابن عساکر من مراسیل ابی جعفر وابن ابی شیبۃ)