30209- "من مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن عبد الله بن بريدة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين انكشف الناس عنه فلم يبق معه إلا رجل يقال له زيد آخذ بعنان بغلته الشهباء، وهي التي أهداها له النجاشي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويحك يا زيد ادع الناس، فنادى أيها الناس هذا رسول الله يدعوكم فلم يجب أحد عند ذلك فقال: حض الأوس والخزرج فقال: يا معشر الأوس والخزرج هذا رسول الله يدعوكم فلم يجبه أحد عند ذلك فقال: ويحك ادع المهاجرين فإن لله في أعناقهم بيعة قال: فحدثني بريدة أنه أقبل منهم ألف قد طرحوا الجفون وكسروها، ثم أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى فتح عليهم. "ش".
30209 ۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ ۔ عبداللہ بن برید کی روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن مسلمانوں کو (عارضی طور پر) پسپا ہونا پڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف زید نامی ایک شخص باقی رہا اس نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی یہ خچر نجاشی نے آپ کو ہدیۃ بھیجا تھا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید (رض) سے فرمایا : اے زید ! لوگوں کو بلاؤ ، چنانچہ زید (رض) نے آواز دی اے لوگو ! یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں چنانچہ اس پکار پر کسی نے جواب نہ دیا آپ نے فرمایا : خصوصا اوس اور خزرج کو آواز دے کر بلاؤ، چنانچہ زید (رض) نے کہا : اے اوس و خزرج کی جماعت ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں تمہیں بلا رہے ہیں چنانچہ اب کی بار بھی کسی نے جواب نہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے زید تیرا ناس ہو مہاجرین کو بلاؤ چونکہ انھوں نے بیعت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں مجھے بریدہ (رض) نے حدیث سنائی کہ اس پر ایک ہزار مہاجرین امڈ آئے اور اپنی تلواریں بےنیام کرلیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور یوں اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)