hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30219

.

كنز العمال

30219
Kanz al-Ummal
30219- "مسند شيبة بن عثمان العبدري صاحب الكعبة" عن مصعب بن شيبة عن أبيه قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين والله ما خرجت إسلاما ولكني خرجت آنفا أن تظهر هوزان على قريش، فوله إني لواقف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قلت: يا نبي الله إني لأرى خيلا بلقا قال: يا شيبة إنه لا يراها إلا كافر فضرب بيده في صدري فقال: اللهم اهد شيبة ففعل ذلك ثلاثا، فما رفع النبي صلى الله عليه وسلم يده عن صدري الثالثة حتى ما أحد من خلق الله تعالى أحب إلي منه، فالتقى المسلمون فقتل من قتل ثم أقبل النبي صلى الله عليه وسلم وعمر آخذ باللجام والعباس آخذ بالثفر فنادى العباس: أين المهاجرون أين أصحاب سورة البقرة بصوت عال؟ هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل الناس والنبي صلى الله عليه وسلم يقول قدماها: أنا النبي لا كذب ... أنا ابن عبد المطلب فأقبل المسلمون فاصطكوا بالسيوف، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الآن حمي الوطيس. "كر".
30219 ۔۔۔ ” مسند شیبۃ بن عثمان عبدی صاحب کعبہ “ مصعب بن شیبۃ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا بخدا ! میں اسلام قبول کرنے کی غرض سے نہیں گیا تھا البتہ میں اس لیے گیا تھا تاکہ ھوازن قریش پر چڑھائی کریں اور میں تماشا دیکھوں اسی اثناء میں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا تھا یکایک میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں ابلق گھوڑوں پر سوار لوگوں کو دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا : اے شیبہ ! ان گھڑ سواروں کو کسی کافر کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر تین بار فرمایا : یا اللہ ! شیبہ کو ہدایت عطا فرما چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ میرے دل کی دنیا بدل گئی اور سطح زمین پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں تھی چنانچہ مسلمانوں نے بےجگری سے جنگ لڑی جس نے جنگ میں قتل ہونا تھا وہ ہوا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے جبکہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) آپ کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور عباس (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے اتنے میں عباس (رض) نے اعلان کیا : کہاں ہیں مہاجرین عباس (رض) نے بااواز بلند یہ اعلان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ہیں پھر لوگوں نے آپ کی طرف امڈ آنا شروع کیا جبکہ آپ یہ رجز یہ شعر پڑھ رہے تھے : انا النبی لا کذب