30241- عن خزيمة بن ثابت قال: حضرت مؤتة فبارزت رجلا يومئذ فأصبته وعليه بيضة له فيها ياقوتة فلم يكن همي إلا الياقوتة، فأخذتها، فلما انكشفنا وانهزمنا رجعت بها إلى المدينة فأتيت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فنفلنيها فبعتها زمن عمر بمائة دينار. الواقدي، "كر".
30241 ۔۔۔ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ میں غزوہ موتہ میں شریک رہا ہوں اس دن میں نے ایک شخص کو مقابلے کے لیے للکارا تاہم وہ میرے مقابلے پر اتر آیا اس کے سر پر خود تھا اور خود میں قیمتی موتی جڑا ہوا تھا اسے للکارنے سے میرا مقصد یہی قیمتی جو ہر تھا میں نے اسے قتل کرکے موتی لے لیا پھر جب ہم پسپا ہوئے میں یہ موتی لے کر مدینہ واپس ہوا اور موتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا آپ نے انعام میں وہ موتی مجھے عطا کردیا پھر میں نے یہ موتی حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک سو دینار میں فروخت کیا ۔ (رواہ الواقدی وابن و عساکر)