hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30267

.

كنز العمال

30267
Kanz al-Ummal
30267- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين أمر أسامة بن زيد وبلغه أن الناس عابوا إمارته، فطعنوا فيها فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فقال: ألا إنكم تعيبون أسامة وتطعنون في إمارته وقد فعلتم ذلك بأبيه من قبل، وإن كان لخليقا بالإمارة، وإن كان لأحب الناس كلهم إلي، وإن ابنه من بعده لأحب الناس إلي، فاستوصوا به خيرا، فإنه من خياركم، قال سالم: ما سمعت عبد الله بن عمر يحدث بهذا الحديث قط إلا قال: والله ما حاشا فاطمة. "كر".
30267 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ (رض) کو لشکر کا امیر مقرر کیا تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اسامہ (رض) کی امارت پر تنقید کر رہے ہیں تو آپ نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : خبردار ! شنید ہے کہ تم لوگ اسامہ کی امارت پر تنقید کر رہے ہو جبکہ تم لوگ قبل ازیں اس کے باپ پر بھی تنقید کرچکے ہو بلاشبہ اس کا باپ امارت کا سزاوار تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اس کے بعد اس کا بیٹا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا اس کے ساتھ بہتر سلوک کرو چونکہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔ سالم کہتے ہیں : ابن عمر (رض) نے جب بھی یہ حدیث سنائی ضرور کہا : بخدا ! سوائے فاطمہ (رض) کے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا کہ اسامہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے تو حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس سے فاطمہ (رض) کو مستثنی رکھا ۔ (رواہ ابن عساکر)