30313- "مسند جزء بن الحدرجان بن مالك" قال: وفد أخي قداد بن الحدرجان بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم من اليمن من موضع يقال له القنونى بسروات الأزد بإيمانه وإيمان من أعطى الطاعة من أهل بيته وهم إذ ذاك ستمائة بيت ممن أطاع الحدرجان وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم فخرج قداد مهاجرا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم برسالة أبيه الحدرجان وإيمانهم، فلقيت في بعض الطريق سرية النبي صلى الله عليه وسلم فقتلت قدادا فقال قداد: أنا مؤمن فلم يقبلوا وقتلوه في جوف الليل، فبلغنا ذلك وخرجت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته وطلبت ثأري فنزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا} الآية فأعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ألف دينار دية أخي وأمر لي بمائة ناقة حمراء وقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يمنعني أن أصير لك المائة الناقة دية أخرى إلا أني لا أتعب سرية للمسلمين من بعد فتكون دية المسلم ديتين فرضيت وسلمت وعقد لي رسول الله صلى الله عليه وسلم على سرية من سرايا المسلمين فخرجت إلى حي حاتم طيء وغنمت مغنما كثيرا وأسرت أربعين امرأة من حي حاتم، فأتيت بالنسوة وهداهن الله للإسلام وزوجهن رسول الله صلى الله عليه وسلم. أبو نعيم
30313 ۔۔۔ ” مسند جزء بن حدر جان بن مالک “ جزء (رض) کی روایت ہے کہ میرا بھائی قداد بن حدر جان بن مالک یمن سے ایک وفد کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مقام قنونی سے قبیلہ ازد کی تولیوں کے ساتھ چلا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اور اپنے مطیعین کے ایمان کی خبر دیں ان میں سے اکثر ان کے خاندان کے لوگ تھے ان کی تعداد چھ سو گھرانوں کے لگ بھگ تھی ، چنانچہ قداد اپنے والد جدر جان کا خط لے کر محو سفر ہوگیا راستے میں قداد کی ملاقات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی لشکر سے ہوئی لشکر کے سواروں نے قداد پر حملہ کردیا قداد نے بارہا کہا کہ میں مؤمن ہوں لیکن لشکر نے اس کی بات قبول نہ کی اور اسے قتل کردیا ہمیں اس کی خبر ہوئی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑا اور آپ کو ماجرا سنایا اور اپنے بھائی کے قصاص کا مطالبہ کیا اسی موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی ” یا ایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ الایۃ اے ایمان والو ! جب تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلو تو تحقیق کرلیا کرو ۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے میرے بھائی کی دیت میں ایک ہزار دینار دیئے اور میرے لیے ایک سو اونٹوں کا حکم دیا پھر فرمایا : میں تمہیں ایک سو اونٹ اور دیتا لیکن ہم نے اور لشکر بھی بھیجنے ہیں یوں وہم ہوجائے گا کہ مسلمان کی دیت دگنی ہے چنانچہ میں نے سرتسلیم خم کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مسلمانوں کے ایک سریہ پر امیر مقرر کیا اور میں نے قبیلہ طی کی ایک بستی پر حملہ کیا وہاں سے مجھے بہت سارا مال غنیمت میں ملا اور میں اپنے ساتھ چالیس عورتیں بھی قید کر کے لے آیا ان عورتوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل سے اسلام قبول کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شادیاں کرا دیں ۔ (رواہ ابونعیم)