30486- عن عبد الرحمن بن حنظلة الزرقي عن مولى لقريش كان قديما يقال له ابن مرسى قال: كنت جالسا عند عمر بن الخطاب فلما صلى الظهر قال: يا يرفا هلم الكتاب! لكتاب كان كتبه في شأن العمة يسأل عنها ويستخبر فيها، فأتاه به يرفا - فدعا بتور أو قدح فيه ماء فمحا ذلك الكتاب فيه ثم قال: لو رضيك الله لأقرك. "مالك، هق"
30486 ۔۔۔ عبدالرحمن بن حنظلہ رقی قریش کے ایک غلام سے روایت کرتے ہیں جنہیں پہلے ابن مریسی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، جب وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اے یرفا (غلام کا نام ہے) کتاب لے آؤ جس کتاب میں پھوپھی کے متعلق احکام تھے کہ ان کے متعلق لوگوں سے سوال کرنا اور جواب دینا وغیرہ یرفاوہ کتاب لے آئے تو حضرت عمر (رض) نے پانی کاپیالہ منگوایا پھر پانی سے اس لکھائی کو مٹا دیا، پھر فرمایا کہ اگر اللہ کو منظور ہواتو۔