30503- عن ابن أبي ليلى أن عمر وعليا قالا في قوم غرقوا جميعا لا يدرى أيهم مات قبل كأنهم كانوا إخوة ثلاثة ماتوا جميعا لكل رجل منهم ألف درهم وأمهم حية: يرث هذا أمه وأخوه، ويرث هذا أمه وأخوه، فيكون للأم من كل رجل منهم سدس ما ترك، وللإخوة ما بقي كلهم كذلك، ثم تعود الأم فترد سوى السدس الذي ورث أول مرة من كل رجل مما ورث من أخيه الثلث. "عب".
30503 ۔۔۔ ابن ابی لیلی کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور علی (رض) نے اس قوم کے متعلق فیصلہ فرمایا جو ایک ساتھ غرق ہوئی ان میں یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون پہلے مرا گویا کہ تین بھائی تھے اور تنیوں اکٹھے ہی مرگئے ان میں سے ہر ایک کے پاس ہزار ہزار درھم ہیں اور ان کی ماں زندہ ہے تو اس کا وارث ماں اور بھائی ہے پھر اس بھائی کا وارث بھی ماں اور بھائی ہے تو ماں کو ہر ایک کے ترکہ میں سے سدس ملے گا بھائیوں کو مابقیہ تینوں کے کا ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا پھر ہر بھائی اپنے بھائی کے ترکہ سے جو ملا وہ مال پھر روکا ہوگا۔ رواہ عبدالرزاق