hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30524

.

كنز العمال

30524
Kanz al-Ummal
30513- عن إبراهيم أن رجلا عرف أختا له سبيت في الجاهلية فوجدها ومعها ابن لها لا يدرى من أبوه فاشتراهما ثم أعتقهما، وأصاب الغلام مئلا ثم مات، فأتوا ابن مسعود فذكروا له ذلك فقال: ائت أمير المؤمنين عمر فسله عن ذلك ثم ارجع فأخبرني بما يقول لك! فأتى عمر فذكر ذلك له فقال: ما أراك عصبة ولا بذي فريضة، فرجع إلى ابن مسعود فأخبره فانطلق ابن مسعود حتى دخل على عمر فقال: كيف أفتيت بهذا الرجل؟ قال: لم أره عصبة ولا بذي فريضة، فقال عبد الله: هذا لم تورثه من قبل الرحم ولا ورثته من قبل الولاء، قال: ما ترى؟ قال: أراه ذا رحم وولي النعمة وأرى أن تورثه؛ قال: فورثه. "ص".
30513 ۔۔۔ ابراہیم نخعی (رح) روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کو معلوم تھا کہ ان کی ایک بہن زمانہ جاہلیت میں قید ہوچکی تھی بعد میں وہ مل گئی اس کے ساتھ اس بہن کا ایک لڑکا بھی لیکن اس کے باپ کا علم نہیں کہ وہ کہاں ہے تو اس شخص نے اپنی بہن اور بھانجے کو خریدلیا پھر دونوں کو آزاد کردیالڑکے نے کچھ مال کمایا اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا اب اس شخص نے ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر میراث کا مسئلہ پوچھاتو انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) سے مسئلہ پوچھیں اور مسئلہ بتائیں مجھے اس کی اطلاع کریں چنانچہ وہ شخص حضرت عمر (رض) خدمت میں حاضر ہوا اور مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں نہ آپ اس کے اصحاب الفرائض میں سے ہیں نہ عصبہ وہ شخص واپس ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہو اور حضرت عمر (رض) کا جواب سنایا تو حضرت ابن مسعود (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں گئے اور عرض کیا کہ آپ نے اس شخص کو ذوی الارحام ہونے کی وجہ سے وارث قراردیا ہے نہ ولاء کا حقدار سمجھا تو حضرت عمر نے کہا کہ آپ کی کیا رائے ہے، تو عرض کیا کہ میں ان کو ذوی الارحام بھی سمجھتا ہوں اور ولاء کا حقدار بھی میرا خیال یہی ہے کہ آپ اس شخص کو وارث قرار دیں چنانچہ اس شخص کو وارث قرار دیا ۔ رواہ سعید بن منصور