30515- عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رئاب بن حذيفة تزوج امرأة فولدت له ثلاثة غلمة فماتت أمهم فورثوا رباعها وولاء مواليها، وكان عمرو بن العاص عصبة بنيها فأخرجهم إلى الشام فماتوا، فقدم عمرو بن العاص ومات مولى لها وترك مالا فخاصمه إخوتها إلى عمر بن الخطاب فقال عمر رضي الله تعالى عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أحرز الولد أو الوالد فهو لعصبته من كان، قال: فكتب له كتابا فيه شهادة عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت ورجل آخر؛ فلما استخلف عبد الملك اختصموا إلى هشام بن إسماعيل فرفعهم إلى عبد الملك فقال: هذا من القضاء الذي ما كنت أراه؛ فقضى لنا بكتاب عمر بن الخطاب فنحن فيه إلى الساعة. "حم، د ، ن، هق وهو صحيح".
30515 ۔۔۔ عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رثاب میں حذیفہ نے ایک عورت سے نکاح کیا رثاب کے تین لڑکے تھے ان کی ماں کا انتقال ہوا ان کو ماں کا مکان میراث کے طور پر ملا نیز آزاد کردہ غلاموں کا ولاء بھی عمرو بن العاص اس عورت کے بچوں کے عصبہ تھے ان کو لے کر ملک شام چلے گئے وہاں سب کا انتقال ہوگیا پھر اس عورت کے ایک غلام کا انتقال ہوا اس کے ترکہ میں کچھ مال تھا اس عورت کے بھائیوں نے عمروبن العاص سے ترکہ کے بارے میں جھگڑا کیا اور مقدمہ فیصلہ کے لیے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں لے گئے تو حضرت عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے مااحزالولد اوالوالد فھو لعصبتہ من کان یعنی بیٹا یا باپ جو کچھ مال جمع کرے مرنے کے بعد عصبہ کا حق ہے عصبہ جو بھی ہوا ان کو ایک دستاویز لکھ کردی اس میں عبدالرحمن بن عوف اور زید بن ثابت اور ایک شخص کی شہادت تھی جب عبدالملک خلیفہ بنے تو یہ پھر اس مقدمہ کو ہشام بن اسماعیل کے پاس لے گئے اور انھوں نے عبدالملک کے پاس بھیجا توعبدالملک نے کہا کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو میری رائے کے خلاف ہے پھر انھوں نے حضرت عمر (رض) کی دستاویز کے مطابق فیصلہ سنایا ہم قیامت تک اس فیصلہ پہ قائم رہیں گے ۔ مسند احمد، ابوداؤد ، نسانی ، بیہقی ، وھوصحیح