hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30558

.

كنز العمال

30558
Kanz al-Ummal
30547- عن قبيصة بن ذؤيب قال: جاءت الجدة إلى أبي بكر تطلب ميراثها من ابن ابنها أو ابنتها فقال أبو بكر رضي الله عنه: ما أجد لك في كتاب الله شيئا ولا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي لك بشيء وسأسأل الناس العشية! فلما صلى الظهر أقبل على الناس فقال: إن الجدة أتتني تسألني ميراثها من ابن ابنها أو ابن بنتها وإني لم أجد لها في كتاب الله شيئا ولم أسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقضي لها بشيء فهل سمع أحد منكم من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها شيئا؟ فقام المغيرة بن شعبة فقال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي لها السدس، فقال: من معك؟ فشهد محمد بن مسلمة، فأعطاها أبو بكر السدس؛ فلما جاءت خلافة عمر رضي الله عنه جاءته الجدة التي تخالفها فقال عمر: إنما كان القضاء في غيرك ولكن إذا اجتمعتما فالسدس بينكما وأيتكما خلت به فهو لها. "مالك، عب، ص"
30547 ۔۔۔ قبیصہ بن ذونیب کہتے ہیں کہ ایک وادی ، نانی حضرت صدیق اکبر (رض) کی خدمت میں آئی اپنے پوتے کی یانواسے کی میراث کے سلسلہ میں توصدیق اکبر (رض) نے جواب دیا کہ کتاب میں تو تمہارا حصہ مذکور نہیں پاتا نہ ہی تمہارے حصہ میراث کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے کچھ سنا کہ انھوں نے تمہارے لیے کوئی حصہ مقرر کیا ہوا البتہ شام کو دیگر صحابہ کرام (رض) سے پوچھو کا ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ایک وادی نانی ، پوتے یانواسے کی میراث کا مطالبہ کررہی ہے مجھے تو قرآن کریم اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ان کیے لیے میراث کا کوئی حصہ نہیں ملا کیا تم میں سے کسی نے اس سلسلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث سنی ہے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے حق میں سدس کا فیصلہ فرمایا ہے صدیق اکبر (رض) نے فرمایا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو محمد بن مسلمہ (رض) نے بھی اس کی گواہی دی تو صدیق اکبر (رض) نے دادی کے لیے سدس کا فیصلہ فرمایا دیا جب حضرت عمر (رض) کا دور خلافت آیا دوسری جدہ (یعنی نانی) آئی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ فیصلہ تو دوسری کے حق میں تھا لیکن جب تم دونوں بیک وقت ایک میراث میں جمع ہوں تو دونوں سدس میں شریک ہوں گی اور جو تنہا وارث ہو اسی کو سد ملے گا۔ (مالک عبدالرزاق سعید بن منصور)