3056- "المطففين" "أما قولك في مقام الناس بين يدي رب العالمين، يوم القيامة فألف سنة لا يؤذن لهم، وأما قولك ما يشق على المؤمن من ذلك المقام، فإن المؤمنين فريقان، فأما السابقون فكالرجلين تناجيا فطالت نجواهما، ثم انصرفا فأدخلا الجنة، وبين الجنة والنار حوض شرفاته على الجنة، وتضرب شرفاته على النار، طوله شهر، وعرضه شهر، أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، فيه أقداح من فضة وقوارير، من شرب منه كأسا لم يجد عطشا ولا "غرثا –1" حتى يقضى بين العباد فيدخل الجنة". "طب عن ابن عمرو".
3056: سورة المطففین۔ اولئک انہم مبعوثون لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العالمین۔ المطففین۔
وہ لوگ اٹھائے جائیں گے ایک عظیم دن (میں پیشی) کے لیے۔ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔
تمہارا یہ سوال کہ لوگ رب العالمین کے حضور (کتنے عرصے) کھڑے ہوں گے اور مومن کو اس مقام پر کیا مشقت پیش آئے گی تو جان لو کہ قیامت کے دن ایک ہزار سال تک تو کسی کو (خدا سے بولنے اور وہاں سے ٹلنے کی) اجازت نہیں ہوگی۔ پھر مومن کی دو قسمیں ہیں مومنین سابقین تو ان دو شخصوں کی طرح ہیں جو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں اور ان کی بات چیت لمبی ہوجائے پھر وہ مڑ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔
جنت اور جہنم کے درمیان ایک حوض ہے اس کے کنارے ایک طرف جنت پر ہیں اور دوسری طرف جہنم پر۔ اس حوض کی لمبائی اور چوڑائی ایک ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس حوض میں چاندی اور شیشوں کے پیالے ہیں۔ جو شخص اس حوض سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا وہ پیاس محسوس کرے گا اور نہ بھوک حتی کہ بندوں کے درمیان حساب کتاب ہو کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ المعجم الکبیر بروایت ابن عمر (رض)۔