30558- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: جاء ابن عباس رجل فقال: رجل توفي وترك ابنته وأخته لأبيه وأمه؟ فقال ابن عباس: لابنته النصف وليس لأخته شيء فما بقي فهو لعصبته، فقال له الرجل: إن عمر قد قضى بغير ذلك، قد جعل للأخت النصف وللبنت النصف، فقال ابن عباس: أأنتم أعلم أم الله! حتى لقيت ابن طاوس فذكرت ذلك له فقال ابن طاوس: أخبرني أبي أنه سمع ابن عباس يقول: قال الله تعالى: {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ} قال ابن عباس فقلتم: لها النصف وإن كان له ولد. "عب".
30558 ۔۔۔ ابی سلمہ بن عبدالرحمن کہتے میں کہ ابن عباس (رض) کے پاس ایک شخص نے آکر مسئلہ پوچھا کہ ایک شخص کا انتقال ہو اور ثہ میں بینی اور حقیقی بہن ہیں تو ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ بینی کو نصف مال دیا جائے بہن کو کچھ نہیں ملے گا جو آدھا مال باقی بچاوہ عصبہ کا حق ہے اس شخص نے کہا کہ حضرت عمر (رض) نے تو اس کے خلاف فتوی دیا ہے کہ آدھا بیٹی کو اور آدھا بہن کو وہ ابن عباس (رض) نے کہا کہ شریعت کو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ یہاں تک میری ملاقات ابن طاوس (رح) سے ہوئی میں نے ان سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میرے والد طاؤس نے مجھے بتلایا کہ انھوں نے ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ان امرؤ ھلک لیس لہ والد ولہ اخت فلھا نصف ماترک
ابن عباس (رض) نے کہا کہ تم کہتے ہو کہ اس کو نصف ملے اگرچہ اس کی اولاد ہو۔ رواہ عبدالرزاق