30563- عن هذيل بن شرحبيل قال: جاء رجل إلى أبي موسى الأشعري وسلمان بن ربيعة الباهلي فسألهما عن رجل ترك ابنته وابنة ابنه فقالا: للإبنة النصف، وليس لابنة الابن شيء، وائت ابن مسعود! فإنه سيتابعنا، قال: فجاء الرجل إلى عبد الله بن مسعود فأخبره بما قالا، قال: قد ضللت إذا وما أنا من المهتدين ولكن سأقضي فيها بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل ترك ابنته وابنة ابنه وأخته فجعل للإبنة النصف، ولابنة الابن السدس وما بقي للأخت. "عب" .
30563 ۔۔۔ ھذیل بن شرجیل کہتے ہیں کہ ایک شخص ابوموسیٰ اشعری (رض) اور سلمان بن ربیعہ باھلی کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ ایک شخص کے ورثہ میں بیٹے اور پوتی ہے تو دونوں نے جواب دیا کہ بیٹے کو نصف ملے گا اور پوتی کو کچھ بھی نہیں ملے گا اور ابن مسعود (رض) سے بھی یہ مسئلہ پوچھیں وہ ہماری موافقت کریں گے کہتے ہیں پھر وہ شخص ابن مسعود (رض) کے پاس پہنچا ان دونوں نے جو مسئلہ بتایا وہ ابن مسعود (رض) سے عرض کردیا تو ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اگر میں ان کے قول کی اتباع کروں تو گمراہ ہوجاؤں میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بیٹے پوتی اور بہن میں اس طرح فیصلہ فرمایا تھا کہ بیٹے کو نصف پوتی کو سدس اور ما بقیہ بہن کو۔ رواہ عبدالرزاق