30627- عن قتادة قال: دعا عمر بن الخطاب علي بن أبي طالب وزيد ابن ثابت وعبد الله بن عباس رضي الله عنهم فسألهم عن الجد فقال له علي: له الثلث على كل حال؛ وقال زيد: له الثلث مع الأخوة، وله السدس من جميع الفريضة، ويقاسم ما كانت المقاسمة خيرا له؛ وقال ابن عباس: هو أب ليس للأخوة معه ميراث وقد قال الله تعالى: {مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ} وبيننا وبينه آباء؛ فأخذ عمر بهول زيد. "عب".
30627 ۔۔۔ قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے علی بن ابی طالب زیدبن ثابت اور عبداللہ بن عباس (رض) کو بلایا اور ان سے دادا کے حصہ کے متعلق دریافت فرمایا حضرت علی (رض) نے فرمایا اس کے لیے ہر حال میں ثلث ہے حضرت زید (رض) نے فرمایا بھائیوں کے ساتھ آئے تو ثلث ہے دوسرے اصحاب الفرائض کے ساتھ آئے تو سدس جن صورتوں میں مقاسمہ بہتر ہو ان میں مقاسمہ پر عمل کیا جائے گا ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ وہ باپ کے قائم مقام ہیں لہٰذا دادا کی موجودگی میں بھائیوں کو میراث نہیں ملے گی ارشاد باری تعالیٰ ہے ملة ابیکم ابراھیم ہمارے اور ان کے درمیان بہت سے آباء حائل ہیں اس کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) کو باپ قرار دیا حضرت عمر (رض) نے زید بن ثابت (رض) کو ڈرانا شروع کیا۔ عبدالرزاق
مطلب یہ ہے کہ ابن عباس (رض) کی دلیل کو پسند کیا۔