30647- عن إبراهيم قال: كان علي يشرك الجد إلى ستة مع الأخوة ويعطي كل صاحب فريضة فريضته، ولا يورث أخا للأم مع الجد ولا أختا للأم، ولا يقاسم بالأخ للأب مع الأخ للأم والأب الجد، ولا يزيد الجد مع الولد على السدس إلا أن لا يكون معه غيره أخ أو أخت وإذا كانت أخت لأب وأم وجد وأخ لأب أعطي الأخت النصف وما بقي أعطاه الجد والأخ بينهما نصفين فإن كثر الإخوة شركه معهم حتى يكون السدس خيرا له من المقاسمة، فإذا كان السدس خيرا له أعطاه السدس؛ وإذا كانت أخت لأب وأم وأخ وأخت لأب وجد جعلها من عشرة: للأخت من الأب والأم النصف خمسة أسهم، وللجد سهمان، وللأخ للأب سهمان، وللأخت للأب سهم. "عب، هق"
30647 ۔۔۔ ابراہیم نخعی (رح) کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) دادا کو بھائیوں کی تعداد چھ ہونے تک بھائیوں کے ساتھ میراث میں شریک کرتے تھے اور ہر ایک کو اپنا حصہ دیتے اور دادا کی وجہ سے اخیافی بہن بھائی کو محروم کرتے اس طرح حقیقی بھائی اور دادا کے ساتھ علاتی بھائی کو میراث کا حصہ نہیں دیتے ولاء کی موجودگی میں داداکو سدس سے زیادہ نہیں دیتے ہاں میت کے بھائی بہن موجود ہوں اگر میت کی ایک حقیقی بہن دادا اور علاتی بھائی ہو تو حقیقی بہن کو نصف بقیہ مال دادا کو اور علاتی بھائی کے درمیان تقسیم کرتے آدھا آدھا اگر بھائیوں کی تعداد بڑھ جاتی تو دادا کو بھائیوں کے ساتھ میراث میں شریک رکھتے جب تک مقاسمہ سدس سے بہتر رہے جب سدس بہتر ہوتا تو دادا کو سدس دیتے اگر ایک حقیقی بہن دادا علاتی بہن اور بھائی ہوتا تو ترکہ کو دس حصوں میں تقسیم کرتے حقیقی بہن کو پانچ حصے آدھا دادا کو دوحصے علاتی بھائی کو دوحصے علاتی بہن کو ایک حصہ۔ (عبدالرزاق ، بیہقی)