30669- عن عمرو بن شعيب أن رجلا من بني مدلج يقال له قتادة حذف ابنه بالسيف فأصاب ساقه فنزف منها فمات، فقدم سراقة بن مالك بن جعشم على عمر بن الخطاب فذكر ذلك له فقال له عمر: أعدد لي على ماء قديد مائة وعشرين بعيرا حتى أقدم عليك! فلما قدم عليه عمر أخذ من تلك الإبل ثلاثين حقة وثلاثين جذعة وأربعين خلفة ؛ ثم قال: أين أخو المقتول! قال: ها أنا ذا، قال: خذها! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس للقاتل شيء. "مالك والشافعي، هق"
30669 ۔۔۔ عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ بنی مدلج کے قتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کے سر میں تلوار ماری پنڈلی کو لگ گئی اس سے خون بہہ کیا اور انتقال کرگیا سراقہ بن مالک بن جعشم نے حضرت عمر (رض) کو واقعہ بیان کیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ماء دیا (نامی جگہ پر) میرے لیے ایک سوبیس 120 اونٹ تیار کرو یہاں تک میں وہاں پہنچ جاؤں جب حضرت عمر (رض) وہاں پہنچے ان اونٹوں میں سے تیس حصے اور تیس جذب اور چالیس حاملہ اونٹیاں میں پھر فرمایا کہ مقتول کا بھائی کہاں ہے تو اس نے کہا میں حاضر ہوں فرمایا کہ یہ اونٹ لے لو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قاقتل کو میراث کا کوئی حصہ نہیں ملے گا ۔ مالک شافعی بیہقی