30671- عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: غضب رجل من بني مدلج على ابن له فحذفه بسيفه فأصاب رجله فنزف الغلام فمات، فانطلق في رهط من قومه إلى عمر، فقال: يا عدو نفسه! أنت الذي قتلت ابنك! لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يقاد للإبن من أبيه لقتلتك، هلم ديته! فأتاه بعشرين أو ثلاثين ومائة بعير، فخير منها مائة: ثلاثين حقة، وثلاثين جذعة، وأربعين ما بين ثنية 2 إلى بازل 3، عامها كلها خلفة، فدفعها إلى ورثته – وفي لفظ: إلى إخوته - وترك أباه. "هق"
30671 ۔۔۔ عمروبن شعیب اپنے والد سے وہ عبداللہ بن عمر وبن العاص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مدلج کا ایک شخص اپنے بیٹے پر ناراض ہوا اس پر تلوار ماری توپاؤں پر لکی اس کا خون بہہ جانے کی وجہ سے انتقال ہوگیا تو وہ شخص اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے اپنے نفس کا دشمن ! کیا تم نے ہی اپنے بیٹے کو قتل کیا اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی ” لا بقداد للا بن من ابیہ “ کہ بیٹے کے قتل پر باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا میں تجھے قتل کرا دیتا قصاصاً اب اس کی دیت اوؤتو وہ ایک سوبیس یاتیس اونٹ لے کر آیا آپ نے اس میں سو اونٹ لیے تیس حصے تیس جذ عہ اور چالیس 6 سے نو سال کے درمیان عمر کے سب حاملہ یہ اس مقتولہ بچہ کے ورثہ کے حوالہ کردیا دوسرے الفاظ میں بھائی کو دیا باپ (قاتل) کو محروم کیا۔ رواہ بیہقی