30680- عن جابر بن زيد قال: أيما رجل قتل رجلا أو امرأة عمدا أو خطأ ممن يرث فلا ميراث لهما منهما، وأيما امرأة قتلت رجلا أو امرأة عمدا أو خطأ ممن ترث فلا ميراث لهما منهما، وإن كان القتل عمدا فالقود إلا أن يعفو أولياء المقتول، فإن عفوا فلا ميراث له من عقله ولا من ماله - قضى بذلك عمر بن الخطاب وعلي وشريح وغيرهم من قضاة المسلمين. "هق"
30680 ۔۔۔ جابر بن زید کہتے ہیں کہ جو شخص بھی عمدایا خطاء کسی ایسے مرد یا عورت کو قتل کرے جس سے قاتل کو میراث ملتی ہو تو اس کو مقتوں کا ترکہ میراث نہیں ملے گی اگر قتل عمدا ہو تو قصاص بھی لازم ہوگا الایہ کہ اولیاء معاف کردیں اگر معاف کردیں تو قاتل کو مقتول کی دیت اور مال میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
حضرت عمر (رض) حضرت علی (رض) اور قاضی شریح جیسے مسلمان قاضیوں نے یہی فیصلہ فرمایا ہے۔ رواہ بیہقی