hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30724

.

كنز العمال

30724
Kanz al-Ummal
30713- عن ابن الزبير أن زمعة كانت له جارية وكان يطأها وكانوا يتهمونها فولدت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لسودة: أما الميراث فله، وأما أنت فاحتجبي منه يا سودة! فإنه ليس لك بأخ. "عب، حم والطحاوي، قط، طب، ك، هق".
30713 ۔۔۔ ابن زبیر کہتے ہیں کہ زمعہ کی موطوء ہ باندی تھی لوگ اس باندی پر زنا کی تہمت رکھتے تھے اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میراث تو اسی لڑکے کا حق ہے البتہ اے سودہ آپ سے پردہ کریں کیونکہ یہ آپ کا بھائی نہیں۔ ( عبدالرزاق مسند احمد طحاوی دار قطنی طبرانی مستدرک بیہقی)
مطلب یہ ہے کہ نسب میں چونکہ احتیاط اس میں سے کہ نسب ثابت مانا جائے اس لیے اس لڑکے کو باندی کے آقا سے ثابت نسب قرار دیا اور پردہ کے حکم میں احتیاط اس میں ہے کہ مشکوک سے بھی پردہ کیا جائے اس لیے سودہ بنت زمعہ (رض) کو والد کی باندی کے لڑکے سے پردہ کا حکم فرمایا۔