30803- عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: حدثت أن موسى أو عيسى قال: يا رب! ما علامة رضاك عن خلقك؟ فقال: أن أنزل عليهم الغيث إبان 3 زرعهم، وأحبسه إبان حصادهم، وأجعل أمورهم إلى حلمائهم، وفيئهم في أيدي سمحائهم؛ قال: يا رب! فما علامة السخط؟ قال: أن أنزل الغيث إبان حصادهم، وأحبسه إبان زرعهم، وأجعل أمورهم إلى سفهائهم وفيئهم في أيدي بخلائهم. "هب، خط في رواة مالك".
30803 ۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں مجھ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ ! آپ کے مخلوق سے راضی ہونے کی کیا علامت ہے فرمایا کہ ان کی کھیتی اگنے کے وقت بارش برساتا ہوں اور فصل کٹنے کے وقت بارش روک لیتا ہوں اور ان کے معاملات عقلمند لوگوں کے سپرد کرتا ہوں اور ان کے مال غنیمت سخی لوگوں کے ہاتھ میں دیتاہوں پھر عرض کیا باری تعالیٰ ناراضگی کے علامات کیا ہیں تو فرمایا فصل پکنے کے وقت بارش برساتا ہوں ظہور کے وقت روک لیتا ہوں ار ان کے امور حکومت کم عقل لوگوں کے سپرد کردیتا ہوں اور مال غنیمت بخیلوں کے حوالہ کردیتاہوں ۔ بیہقی خط فی رواة مالک