30932- يكون اختلاف عند موت خليفة، فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة فيأتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام، ويبعث إليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة، فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام وعصائب أهل العراق فيبايعونه بين الركن والمقام ثم ينشأ رجل منقريش أخواله كلب فيبعث إليهم بعثا فيظهرون عليهم، وذلك بعث كلب، والخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب، فيقسم المال ويعمل في الناس بسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم ويلقي الإسلام بجرانه إلى الأرض فيلبث سبع سنين ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون. "حم، د ، ك - عن أم سلمة".
30931 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ ایک خلیفہ کے موت کے وقت اختلافات پیداہوں گے اہل مدینہ میں سے ایک شخص بھاگتا ہوا مکہ مکرمہ کی طرف نکلے گا تو اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو نکالیں گے اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے رکن حجرا سود بیت اللہ اور مقام ابراہیم کے درمیان پھر شامیوں کا ایک لشکر اس کے پاس بھیجا جائے گا مکہ مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا جب لوگ اس واقعہ کو دیکھیں گے تو ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی ایک جماعت اس کے پاس آئیں گے اور حجراسود اور مقام ابراھیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت ہوں گے پھر قریش کا ایک شخص بیدار ہوگا جس کے تنہیال بنوکلب کے لوگ ہوں گے وہ لشکر بھیجے کا تو وہ لشکر ان پر غالب آجائے گا یہ بنوکلب کا لشکر ہوگا اور خسارہ نقصان اس شخص کے لیے ہے جو بنو کلب کے مال غنیمت میں شریک نہ ہو مال تقسیم ہوگا اور لوگوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے مطابق فیصلہ ہوگا اور اسلام زمین پر مستحکم ہوگا اسطراح سات سال تک رہے گا پھر وہ وفات پاجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (مسنداحمد ابوداؤد مستدرک بروایت ام سلمہ (رض))
کلام :۔۔۔ اس حدیث پر کلام ہے ضیعف الجامع :6439 ۔