31011 إنه عرضت علي الجنة فرأيت فيها داليه قطوفها دانية فأردت أن أتناول منها شيئا فأوحى الله إلي أن استأخر ! فاستأخرت وعرضت علي النار فيما بيتكم وبيني حتى رأيت ظلي وظلكم فيها ، فأو مأت اليكم أن استأخروا ! فأوحي إلى أن أقرهم ! فانك أسلمت وأسلموا وهاجرت وهاجروا وجاهدت وجاهدوا فلم أر لك فضلا عليهم إلا بالنبوة فأولت ذلك ما يلقى أمتي بعدي من الفتن.
(ك - عن ابن مسعود).
31011 ۔۔۔ فرمایا کہ ابھی میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا انا لللہ وانا الیہ راجعون میں نے بھی کہا “ انا لللہ وانا الیہ راجعون “ اے جبرائیل اس کی کیا وجہ ہے فرمایا کہ آپ کی امت آپ کے تھوڑے دنوں کے بعدفتنہ میں مبتلا ہوگی میں نے پوچھا کفر کا فتنہ یا گمراہی کا فتنہ فرمایا ہر طرح کا فتنہ ہوگا میں نے پوچھا یہ کیسے ہوگا جب کہ میں ان میں اللہ تعالیٰ کی کتاب چھوڑ کرجاؤں گا ؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہی کے ذریعہ گمراہ ہوگی ان کے اقراء اور احکام کی طرف سے اس میں تاویلیں گھڑی جائیں گی حکام لوگوں کو ان کے حقوق نہیں دیں گے اور علماء حکام کی خواہش پرچلیں گے اور گمراہی میں گھستے چلے جائیں گے پھر اس میں کوتاہی نہیں کریں گے میں نے کہا اے جبرائیل ! ان میں سے جو لوگ نجات پائیں گے ان کے لیے نجات کا راستہ کیا ہوگا فرمایا۔ ( اپنے ہاتھ اور زبان کو) روکنے اور صبر کے ذریعہ۔ اگر ان کے حقوق ملیں تولے لیں اگر نہ دیں تو چھوڑ دیں۔ (الحکیم بروایت عمر وھوضعیف)