hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 3106

.

كنز العمال

3106
Kanz al-Ummal
3106- "لا يلي مصاحفنا إلا غلمان قريش أو غلمان ثقيف""الخطيب عن جابر بن سمرة" وقال تفرد برفعه أحمد بن أبي العجوز وهو محفوظ من قول عمر بن الخطاب.
3106: ہمارے قرآنوں کو قریش یا ثقیف کے لڑکوں کے علاوہ اور کوئی نہ قریب لگیں۔ الخطیب بروایت جابر بن سمرہ (رض) ۔
فائدہ : جن دنوں میں قرآن لکھا جا رہا تھا حضرت عمر (رض) نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ قریش اور ثقیف کے نوجوان ہی قرآن پاک لکھوائیں ان کی فصیح زبان ہونے کی وجہ سے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چھوئے بھی نہ۔
کلام : اس کو متفرد بیان کرنا صرف احمد بن ابی العجوز سے منقول ہے۔ یعنی یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہونا موصوف کے علاوہ کسی اور سے ثابت نہیں۔ جبکہ عمر بن خطاب (رض) کے حوالہ سے یہ قول ثابت اور محفوظے۔
فائدہ : اس زمانے میں پڑھے لکھے حضرات زیادہ تر انہی دو قبائل سے تعلق رکھتے ہوں گے اس وجہ سے ایسا فرمایا۔ کیونکہ ان پڑھ قرآن کو کچھ کا کچھ پڑھیں گے۔ لہٰذا پڑھے لکھے حضرات خود پڑھ کر ان پڑھوں کو پڑھائیں اس کے بعد ان کے لیے مصاحف قرآن چھونے کی اجازت ہے۔ اس مضمون کی تائید ذیل کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔