31050 تكون في أمتي أربع فتن تصيب أمتي ، في آخرها فتن مترادفة ، فالاولى يصيبهم فيها بلاء حتى يقول المؤمن : هذه مهلكتي ثم تنكشف ، والثانية حتى يقول المؤمن : هذه مهلكتي ثم تنكشف ، ثم الثالثة ، كلما قيل انقطعت تمادت ، والفتنة الرابع يصيرون فيها إلى الكفر ، إذا كانت الامة مع هذا مرة ومع هذا مرة ومع هذا مرة بلا إمام وجماعة ، ثم المسيح ، ثم طلوع الشمس من مغربها ، ودون الساعة اثنان وسبعون دجالا منهم من لا يتبعه إلا رجل واحد.(نعيم بن حماد في التن عن الحكم بن نافع - بلاغا).
31051 ۔۔۔ فرمایا کہ میری امت میں چار فتنے ہوں گے میری امت آخری زمانہ میں پے درے فتنوں میں مبتلا ہوگی پہلی مرتبہ آزمائش ہوگی تومؤمن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ فتنہ بل جائے گا دوسری مرتبہ کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر ہٹالیا جائے گا تیسری مرتبہ جب کہا جائے گا۔ کہ اب فتنہ رفع ہوگیا تو دوسری طرف سے بھڑک اٹھے گا چوتھا فتنہ اس میں لوگ کفر کی طرف چلیں گے اس وقت امت کبھی اس فرقہ کے ساتھ کبھی اس فرقہ کے ساتھ بلاکسی امام کے اور بلاکسی بڑی جماعت کے ہوگی اس کے بعدعیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا ۔ اس کے بعد سورج مغرب سے طلوع ہوگا قیامت سے پہلے بہتردجالوں کا ظہور ہوگا بعض ایسے ہوں گے کہ ان کا ایک ایک پیروکار ہوگا۔ (نعیم بن حماد فی الفتن بروایت حکم بن نافع بلاغا)