31144 كيف أنت يا عوف ! إذا افترقت هذه الامة على ثلاث وسبعين فرقة ، واحدة منها في الجنة وسائرهن في النار ؟ قلت : ومتى ذلك يا رسول الله ؟ قال : إذا كثرت الشرط ، وملكت الاماء ، وقعدت الجملا على المنابر ، واتخذ القرآن مزامير ، وزخرفت المساجد ، ورفعت المنابر ، واتخذ الفئ دولا والزكاة مغرما والامانة مغنما ، و
تفقه في الدين لغى رالله ، وأطاع الرجل امرأته وعق أمه وأقصى أباه ، ولعن آخر هذه الامة أولها ، وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم أرذلهم ، وأكرم الرجل اتقاء شره ، فيومئذ يكون ذاك فيه ، يفزع الناس يومئذ إلى الشام وإلى مدينة يقال لها دمشق من خير مدن الشام فتحصنهم من عدوهم ، قيل : وهل تفتح الشام ؟ قال : نعم وشيكا ، تقع الفتن بعد فتحها ثم تجئ فتنة غبراء مظلمة ، ثم تتبع الفتن بعضها بعضا حتى يخرج رجل من أهل بيتي يقال له المهدي ، فان أدركته فاتبعه وكن من المهتدين (طب - عن عوف بن مالك)
31144 ۔۔۔ تمہارا کیا حال ہوگا ! اے عوف جب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ جنت میں باقی جہنم میں نے عرض کیا ایسا کب ہوگا یارسول اللہ ! فرمایا جب رذیل لوگ زیادہ ہوجائیں باندیاں مالک بن جائیں کمینے لوگ منبر پر بیٹھ جائیں قرآن کو گانے کی طرز پر پڑھا جائے مساجد میں غیر ضروری زیب وزنیت اختیار کی جائے منبروں کو بہت اونچا کیا جائے مال غنیمت کو ذاتی دولت سمجھاجانے لگے زکوۃ کو تاوان امانت کو مال غنیمت اور دین کا علم غیر اللہ کے لیے سیکھا جانے لگے آدمی ماں کی نافرمانی اور بیوی کی اطاعت کرنے لگے اور باپ کو اپنے سے دور کرے اور امت کا آخری طبقہ پہلے لوگوں پر لعنت کرے اور قبیلہ کا سردار فاسق کو بنایا جائے اور قوم کا بڑا ان کے کمینہ بن جائے اور آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لیے ہو اس زمانہ میں ایسا ہوگا تو لوگ گھبرا کر ملک شام اور ایک شہر جس کا نام دمشق ہے جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے وہاں پہنچ کر اپنے دشمنوں سے قلعہ بند ہوجائیں گے عرض کیا گیا کیا دشمن شام کو فتح کریں گے ؟ فرمایا ہاں کچھ عرصہ کے لیے اس کے بعد فتنے پھوٹ پڑیں گے پھر ایک فتنہ ظاہر ہوگا غبار آلود اندھیرا پھر پے درپے فتنے ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ظاہر ہوگا جس کا نام مہدی ہے تم ان کا زمانہ پالو تو ان کی اتباع کرو اور صراط مستقیم پرچلنے والے لوگوں میں داخل ہوجاؤ۔ طبرانی بروایت عوف بن مالک