31230 سيكون في أمتي اختلاف وفرقة ، قوم يحسنون القيل ويسيؤن الفعل ، ويقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم ، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية ، لا يرجعون حتى يرتد على فوقه ، هم شر الخلق والخليقة ، طوبى لمن قتلهم وقتلوه ! يدعون إلى كتاب الله وليسوا منه في شئ ، من قاتلهم كان أولى بالله منهم ، قالوا : يا رسول الله ! فما سيماهم ؟ قال : التحليق. (د ، ك ، ق ، ص - عن قتادة عن أبي سعيد وأنس معا ، حم ، د ، ه ، ك ، ص - عن قتادة عن أنس وحده ذ ، قال : لم يسمع قتادة هذا الحديث من أبي سعيد إنما سمعه من أبي المتوكل الناجي - عن أبي سعيد).
31230 ۔۔۔ فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور گروہ بندی ہوگی کچھ لوگ قول کے اچھے ہوں گے لیکن فعل ان کا برا ہوگا قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین سے ایسے صاف ہو کر نکل جائیں گے جس طرح تیرکمان سے تکلتا ہے وہ دین کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک تیر کمان کے منہ میں واپس لوٹ آئے وہ بدترین مخلوق اور بدترین اخلاق والے ہیں خوشخبری اس کے لیے جو ان کو قتل کرے یا وہ جس طرح کرے وہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ وہ خود کسی بات پر عمل نہیں کرتے جو ان سے قتال کرے وہ اللہ کا مقرب ہوگا ان کے مقابلہ میں صحابہ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی علامت کیا ہوگی ؟ فرمایا سرمنڈانا۔ (ابوداؤد مستدرک بیہقی سعید بن منصور بروایت قتادہ وہ ابوسعید سے دانس (رض) ایک ساتھ احمد ابوداؤد ابن ماجہ مستدرک سعید بن منصوربروایت قتادہ وہ حضرت انس (رض) سے تنہا راوی کہتے ہیں قتادہ نے یہ حدیث ابوسعید سے نہیں سنی انھوں نے ابی متوکل ناجی سے سنی ہے انھوں نے ابی سعید سے ) ۔